نئی دہلی،30جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے عمل کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والی مسلم خاتون ثمینہ کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ کورٹ میں نکاح اور حلالہ کے خلاف عرضی داخل کرنے والی خاتون ثمینہ بیگم کا الزام ہے کہ ان پرکیس واپس لینے کا دباو بنایا جا رہا ہے۔ جس کے لئے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ثمینہ کے مطابق، وہ اوکھلا وہار میں کرائے پر گھر ڈھونڈ رہی تھیں، تبھی کچھ لوگوں نے انہیں دھمکی دی۔ ثمینہ کے مطابق ان لوگوں نے دھمکی دی کہ اگر وہ اپنی حفاظت چاہتی ہیں توکیس واپس لے لیں، ورنہ اس کا انجام برا ہوگا۔
واضح ہو کہ ثمینہ بیگم کی پہلی شادی 1999 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ ہراساں کرنے کے متعدد واقعات کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت کی لیکن پھر ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی۔ جس کے بعد خاندان والوں نے ان کی دوسری شادی کرا دی۔ دوسرا شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا۔ جب ثمینہ تیسری بار حاملہ ہوئی، تب اس کے دوسرے شوہر نے فون پرطلاق دے دی۔ اب ثمینہ اپنے تین بچوں کے ساتھ اکیلے رہتی ہیں۔
ثمینہ بیگم نے نکاح، حلالہ اور کثرت ازدواج کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی صرف ان کے لئے نہیں ہے، بلکہ ان خواتین کے لئے بھی ہے، جن کے ساتھ ایسے حادثات ہوتے ہیں۔ ثمینہ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ جو تکلیف انہوں نے برداشت کی، وہ کوئی اور خاتون برداشت کرے۔ واضح ہو کہ وہ مشن طلاق کے نام سے ایک تنظیم چلا رہی ہیں۔ ثمینہ بیگم نے بتایا کہ مجھے ریپ اور جان کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ پی آپی آئی ایل واپس لینے کا دباو بنایا جا رہا ہے۔
ثمینہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ 27 جون کی شام میں ان پر حملہ ہوا۔ انہوں نے کہا کچھ لوگوں نے میرے ساتھ بد سلوکی کی۔ میری چیزیں آٹو سے باہر پھینک دی۔ مجھے ڈرایا اور دھمکایا گیا۔ ان لوگوں نے میرے کپڑے پھاڑ دئے اور دھمکی دی کہ اگر میں نے کیس واپس نہیں لیا تو میرے بچوں کو زندہ جلا دیں گے۔ ثمینہ نے پولیس سے سکیورٹی کی مانگ کی ہے۔